امریکی ایلچی سرجیو گور کا قازقستان میں معدنی تعاون پر زور

امریکی ایلچی سرجیو گور نے آستانہ میں منرل ڈائیلاگ میں شرکت کرتے ہوئے وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اہم معدنیات، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
آستانہ میں اہم معدنی وسائل اور تجارتی تعاون پر اعلیٰ سطحی مذاکرات
آستانہ میں اہم معدنی وسائل اور تجارتی تعاون پر اعلیٰ سطحی مذاکرات

آستانہ:

بھارت میں امریکی سفیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے جنوبی و وسطی ایشیا سرجیو گور نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی “منرل ڈائیلاگ” میں شرکت کرتے ہوئے وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

کانفرنس میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سمیت وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد اہم معدنی وسائل کی تلاش، کان کنی، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک محفوظ رسائی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دینا تھا۔

ماہرین کے مطابق اہم معدنیات جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں ان وسائل کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سرجیو گور نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ وسطی ایشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ ان کے مطابق وسطی ایشیا عالمی تجارت، رابطہ کاری، لاجسٹکس اور محفوظ سپلائی چین کے حوالے سے تیزی سے اہمیت حاصل کر رہا ہے۔

دورۂ آستانہ کے دوران سرجیو گور نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں اہم معدنی وسائل، تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرجیو گور نے صدر ٹرمپ کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ واشنگٹن قازقستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

اس سے قبل امریکی ایلچی نے قازقستان کے وزیر خارجہ یرمیک کوشربایف سے بھی ملاقات کی، جس میں مصنوعی ذہانت، تعلیم، سائنس، سرمایہ کاری، تجارت، ٹرانسپورٹ اور اہم معدنی وسائل کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر گفتگو ہوئی۔

قازقستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو تیل، یورینیم اور دیگر قیمتی معدنی وسائل کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک وسطی ایشیا کے ساتھ شراکت داری بڑھا کر اپنی سپلائی چین کو زیادہ متنوع بنانا چاہتے ہیں تاکہ اہم خام مال کے حصول کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار کم کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سرجیو گور کا یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنوبی اور وسطی ایشیا کو صرف سیکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور معدنی وسائل کے اہم مرکز کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔