پشاور:
افغانستان میں تقریباً آٹھ ماہ سے پھنسے 1600 کے قریب پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی محفوظ، باعزت اور بروقت واپسی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں طورخم بارڈر پر گاڑیوں کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے نئے اوقات کار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ، فرنٹیئر کور کے لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کیپٹن ریٹائرڈ بلال راؤ، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل، ان کی وطن واپسی کے طریقہ کار، سرحد پار ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید محفوظ بنانے اور روزانہ افغانستان جانے والی گاڑیوں کے لیے مؤثر بارڈر مینجمنٹ سسٹم پر تفصیلی غور کیا گیا۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں پاکستانی ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیوں سمیت افغانستان گئے تھے، تاہم مختلف انتظامی اور سرحدی مسائل کے باعث تقریباً 1600 گاڑیاں، ان کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کئی ماہ سے افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں ان افراد کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ طورخم بارڈر کے ذریعے گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے جائیں گے۔
نئے نظام کے مطابق صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک افغانستان سے واپس آنے والے پاکستانی ٹرانسپورٹرز اور گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک پاکستان سے افغانستان جانے والی گاڑیوں کی روانگی جاری رہے گی۔
کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی محفوظ اور باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے تاکہ نئے اوقات کار کے مطابق بارڈر مینجمنٹ نظام کو فوری طور پر نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے تحفظ، سہولت اور بروقت واپسی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں افغان حکام، سیکیورٹی اداروں اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سرحد پار ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید مؤثر، منظم اور محفوظ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں گاڑیوں، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کو طویل انتظار یا غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کے لیے انتظامیہ کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
حکام کے مطابق اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر فوری عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی واپسی کے عمل کی مسلسل نگرانی بھی کی جائے گی۔