مظفرآباد:
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر منگل کے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس کے باعث متعدد شہروں میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
دارالحکومت مظفرآباد، باغ، میرپور، راولاکوٹ اور کوٹلی سمیت مختلف علاقوں میں مارکیٹیں، تجارتی مراکز، بینک اور پیٹرول پمپس بند رہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے رہے تاہم ملازمین کی حاضری معمول سے کم رہی۔
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے اور اسی سلسلے میں کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دی گئی تھی۔
مقامی ذرائع کے مطابق مختلف شہروں سے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے نکلنے والی ریلیوں کو بعض مقامات پر روکنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ کئی علاقوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے اضافی نفری بھی تعینات کی تھی۔
دوسری جانب حکومت نے گزشتہ ہفتے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مظفرآباد کے سٹی تھانے میں شوکت نواز میر کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی تقاریر، تحریروں اور آڈیو و ویڈیو پیغامات کے ذریعے بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق میرپور اور مظفرآباد پولیس کو مقدمات درج کرکے تحقیقات مکمل کرنے اور چالان عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومتی الزامات، مقدمات اور قانونی کارروائی کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ احتجاجی تحریک اور حکومتی اقدامات کے بعد خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔