گلگت بلتستان انتخابی تنازع، شاہراہِ قراقرم بند، سی پیک رابطہ متاثر

دیامر میں انتخابی نتائج اور دوبارہ پولنگ کے تنازع پر احتجاج کے باعث شاہراہِ قراقرم تیسرے روز بھی بند رہی، جس سے سی پیک اور چین سے زمینی رابطہ متاثر ہوا۔
دیامر میں احتجاج کے باعث شاہراہِ قراقرم پر آمدورفت متاثر رہی
دیامر میں احتجاج کے باعث شاہراہِ قراقرم پر آمدورفت متاثر رہی

چلاس / گلگت:

گلگت بلتستان کے مختلف انتخابی حلقوں میں نتائج کے اعلان میں تاخیر اور بعض پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے فیصلے کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا۔ ضلع دیامر کے ضلعی ہیڈکوارٹر چلاس میں مظاہرین نے شاہراہِ قراقرم کو بند کر دیا، جس کے باعث مسافروں، سیاحوں اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

احتجاج کا مرکز حلقہ GBA-16 دیامر-II ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عطاء اللہ کے حامی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پوسٹل بیلٹس کی گنتی مکمل کرکے فوری طور پر حتمی نتیجہ جاری کیا جائے اور تین پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

عطاء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 7 جون کو تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹنگ مکمل ہوئی اور انتخابی فارم بھی تیار کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اب صرف پوسٹل بیلٹس کی گنتی باقی ہے، لہٰذا اس مرحلے پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ مناسب نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے عوامی مینڈیٹ متاثر ہوسکتا ہے۔

تاہم انتخابی حکام کا مؤقف ہے کہ دوبارہ پولنگ کا فیصلہ انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی گنتی میں آزاد امیدوار امام ملک کو 24 ووٹوں کی برتری حاصل تھی، جبکہ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ پوسٹل بیلٹس شامل ہونے کے بعد نتیجہ تبدیل ہوسکتا ہے۔

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے ابتدائی طور پر اسکردو-II (GBA-8)، استور-I (GBA-13)، دیامر-I (GBA-15)، دیامر-II (GBA-16) اور دیامر-III (GBA-17) کے مجموعی طور پر 26 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں کمیشن نے اسکردو-II کے 10 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ واپس لے لیا اور مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار کاظم میثم کو کامیاب قرار دے دیا۔

دیامر میں شاہراہِ قراقرم کی بندش نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہ شاہراہ نہ صرف گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر حصوں سے ملاتی ہے بلکہ خنجراب پاس کے ذریعے چین تک زمینی رسائی کا بنیادی راستہ بھی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی خطے میں یہی شاہراہ تجارت، سیاحت اور روزمرہ آمدورفت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

شاہراہِ قراقرم چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی اہم گزرگاہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کو سی پیک کا قدرتی اور زمینی گیٹ وے قرار دیا جاتا ہے کیونکہ پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطہ اسی خطے سے گزرتا ہے۔ شاہراہ کی طویل بندش سے نہ صرف مقامی ٹریفک بلکہ تجارتی سرگرمیوں، سیاحت اور مال برداری کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 7 جون کو گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 براہِ راست نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی۔ اسمبلی میں مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں خواتین کے لیے چھ اور ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز کے لیے تین مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم بعض حلقوں میں تنازعات اور دوبارہ پولنگ کے فیصلوں کے باعث حکومت سازی کی مکمل تصویر ابھی واضح نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے پیشِ نظر انتخابی تنازعات کا جلد، شفاف اور قانون کے مطابق حل انتہائی ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد برقرار رہے اور خطے کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ نتائج کے شفاف اعلان تک احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ انتخابی حکام اور انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کے حل کے لیے آئندہ اقدامات پر نظریں مرکوز ہیں۔