واشنگٹن / نئی دہلی:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھارت کے طویل ترین عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر مبارک باد پیش کی ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں نریندر مودی کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط، صحت مند اور دانش مند رہنما ہیں۔ امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم کے لیے مستقبل میں مزید کامیابیوں، ترقی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کے پیغام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت اور امریکہ کے درمیان جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکی صدر کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک عالمی امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
نریندر مودی نے 26 مئی 2014 کو پہلی مرتبہ بھارت کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ وہ اس وقت مسلسل تیسری مدت کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں اور حالیہ سنگِ میل نے انہیں بھارتی سیاسی تاریخ کے نمایاں رہنماؤں میں شامل کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان حالیہ گرمجوشی پر مبنی پیغامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والی بعض سفارتی پیچیدگیوں اور بداعتمادی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔ ان میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری اور امریکہ میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی ناکام سازش کا معاملہ شامل تھا، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر ڈالا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نیویارک میں مقیم ایک امریکی شہری اور بھارتی حکومت کے ناقد کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کے مقدمے میں بھارتی شہری نکھل گپتا نے امریکی عدالت میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے کے پس منظر میں ایک بھارتی سرکاری اہلکار ملوث تھا، جبکہ بھارت نے بھی اس معاملے پر داخلی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
روس سے تیل کی خریداری کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا سبب رہا۔ امریکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی توانائی کی برآمدات محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات اور اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی تیل درآمد کرتا رہا ہے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا، جہاں توانائی، تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی طرح بھارت میں امریکی سفیر اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے جنوبی و وسطی ایشیا سرجیو گور بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کا مقصد باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دینا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاع، تجارت، توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کو اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے نریندر مودی کے لیے تعریفی پیغام اور بھارتی وزیراعظم کا مثبت جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں حکومتیں اختلافات کے باوجود تعلقات کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کی خواہاں ہیں۔