سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کا الزام عائد کیا

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی معاونت کا الزام لگایا، جبکہ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔
سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے مؤقف ایک بار پھر سامنے آئے
سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے مؤقف ایک بار پھر سامنے آئے

نیویارک:

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر سفارتی تناؤ دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستانی مندوب نے بھارتی نمائندے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے بھارت پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کے الزامات عائد کیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت افغانستان میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کی معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے اور گزشتہ سال دہشت گرد حملوں میں 1,200 سے زائد پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس اور ان کے مبینہ سرپرستوں کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

دوسری جانب بھارت نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی دہشت گردی کے خلاف مستقل مؤقف رکھتا ہے اور پاکستان کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں۔ بھارتی حکام ماضی میں بھی ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور سرحد پار خطرات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف ممالک کے نمائندوں نے خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی سے متعلق الزامات کا تبادلہ دونوں ممالک کے دیرینہ اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ افغانستان کی صورتحال ان سفارتی مباحث میں ایک اہم عنصر بنی ہوئی ہے۔