راولپنڈی:
سینئر سیاستدان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی جاوید ہاشمی سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے عمران خان کی طویل قید پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور ملاقاتوں کے حوالے سے مختلف تحفظات ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جانا چاہیے۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم جمہوری نظام میں سیاسی رہنماؤں کے حقوق اور قانونی تحفظات کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے لیے منصفانہ قانونی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب حکومت اور جیل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں، جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور دیگر انتظامی معاملات کو قانون، عدالتی احکامات اور جیل قواعد کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔
حکام نے سیاسی انتقام یا بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل سے متعلق تمام فیصلے متعلقہ قوانین اور ضابطوں کے تحت کیے جاتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق قیدیوں کے حقوق اور سہولیات کے حوالے سے جیل قواعد پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان مختلف مقدمات کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ ان کی جماعت اور حامی مسلسل ان کی رہائی اور سیاسی مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام مقدمات قانونی اور عدالتی عمل کے مطابق چل رہے ہیں اور ان میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جا رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جاوید ہاشمی کی جانب سے عمران خان کے حق میں اظہارِ یکجہتی ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔