نیویارک:
اقوام متحدہ میں افغانستان کے مشن کے قائم مقام ناظم الامور نصیر احمد فائق نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور تعمیری روابط کا راستہ اختیار کریں۔
سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں نصیر احمد فائق نے کہا کہ فضائی حملوں، جوابی کارروائیوں اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے سے نہ افغانستان میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نہ ہی پاکستان میں استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو عدم مداخلت، باہمی احترام اور تعمیری سفارتی روابط کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کا ازالہ کریں۔
نصیر احمد فائق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں اضافے سے دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور انسانی مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی صورتحال، دہشت گردی کے الزامات اور مبینہ فضائی حملوں کے حوالے سے بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام مختلف مواقع پر ایک دوسرے پر مداخلت اور سیکیورٹی خدشات سے متعلق الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں افغان مشن کے قائم مقام سربراہ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں سلامتی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے بین الاقوامی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔