سلامتی کونسل میں پاکستان اور افغان نمائندے کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستانی اور افغان نمائندوں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔
افغانستان کے معاملے پر سلامتی کونسل میں سفارتی کشیدگی نمایاں رہی
افغانستان کے معاملے پر سلامتی کونسل میں سفارتی کشیدگی نمایاں رہی

نیویارک:

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان اور افغان نمائندے کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جس سے اجلاس میں سفارتی کشیدگی نمایاں ہوگئی۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے خطاب کے بعد افغان مشن کے قائم مقام ناظم الامور نصیر احمد فائق نے ردِعمل دیتے ہوئے بعض ریمارکس پر اعتراض کیا۔

نصیر احمد فائق نے کہا کہ ذاتی نوعیت کے حملے اور الزامات تعمیری مکالمے کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان سے متعلق معاملات پر باہمی احترام اور سفارتی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ نصیر احمد فائق افغانستان کی سابق جمہوری حکومت کے دور سے اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ طالبان حکومت کے نمائندے نہیں ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے تاحال طالبان حکومت کی نمائندگی کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، جس کے باعث افغان مشن بدستور سابق حکومت کے سفارتی عملے کے زیر انتظام کام کر رہا ہے۔

اس وقت نصیر احمد فائق اقوامِ متحدہ میں افغان مشن کے قائم مقام ناظم الامور کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ طالبان حکومت کی جانب سے نامزد نمائندوں کو ابھی تک اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی نشست نہیں دی گئی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں امن و امان، انسانی صورتحال، خواتین کے حقوق اور دہشت گردی کے خطرات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے نمائندوں نے افغانستان میں استحکام اور علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

مبصرین کے مطابق پاکستان اور افغان نمائندوں کے درمیان ہونے والا یہ سفارتی تبادلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان سے متعلق علاقائی مسائل اور سیکیورٹی خدشات اب بھی بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔