طالبان دور میں افغان خواتین پر تشدد اور جبری شادیوں کا انکشاف، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغان طالبان حکومت کے حکام اور جنگجوؤں کی جانب سے خواتین پر بدترین جنسی تشدد، جبری شادیوں اور غیر انسانی سلوک کا سنسنی خیز انکشاف۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغان طالبان حکومت کے حکام اور جنگجوؤں کی جانب سے خواتین پر بدترین جنسی تشدد، جبری شادیوں اور غیر انسانی سلوک کا سنسنی خیز انکشاف۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغان طالبان حکومت کے حکام اور جنگجوؤں کی جانب سے خواتین پر بدترین جنسی تشدد، جبری شادیوں اور غیر انسانی سلوک کا سنسنی خیز انکشاف۔

اسلام آباد: سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے زیرِ سایہ خواتین پر ہونے والے جنسی اور غیر انسانی مظالم عالمی سطح پر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ تشویشناک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے رہنما اور جنگجو خواتین کے خلاف سنگین جنسی تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

خواتین کا استحصال

اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق، طالبان حکام اور ان کے مسلح جنگجوؤں نے افغان خواتین کو بدترین انفرادی اور اجتماعی استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ طالبان کے بااثر حکام اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کو جبری شادیوں پر مجبور کرنے کی مجرمانہ سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔

خواتین پر تشدد

عالمی ادارے کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے والی افغان خواتین کو طالبان حکام کی جانب سے جبری طور پر حراست میں لیا جاتا ہے۔ حراستی مراکز میں ان مظلوم خواتین کو نہ صرف شدید تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے، جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات کا مطالبہ

افغانستان کے قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے اس نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے خواتین پر ڈھائے جانے والے ان سنگین مظالم اور جنسی استحصال کے معاملات کی فوری طور پر ایک آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔