ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو واجب الادا رقوم میں سے 725 ملین ڈالر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم عالمی ادارے کے مطابق واشنگٹن پر مجموعی طور پر 4 ارب ڈالر سے زائد کے واجبات اب بھی باقی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو مجوزہ ادائیگی سے متعلق باضابطہ اطلاع دے دی ہے۔ 725 ملین ڈالر کی یہ رقم اقوام متحدہ کی جانب سے بتائے گئے امریکی بقایاجات کے 20 فیصد سے بھی کم بنتی ہے، تاہم موجودہ نقدی بحران کے دوران اسے عالمی ادارے کے لیے اہم مالی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق امریکہ پر باقاعدہ بجٹ، امن مشنز اور دیگر مدات میں اربوں ڈالر واجب الادا ہیں، تاہم واشنگٹن اقوام متحدہ کی جانب سے بتائی گئی مجموعی رقم کے بعض حصوں سے اختلاف کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ رکن ممالک کی جانب سے واجبات کی مکمل اور بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث عالمی ادارے کو سنگین مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے اخراجات میں کمی کے لیے 2026 کے بجٹ میں 9.2 فیصد کمی سمیت متعدد اصلاحاتی اقدامات بھی کیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید امریکی ادائیگیاں اقوام متحدہ میں اصلاحات، اخراجات میں کمی اور دیگر اقدامات میں پیش رفت سے مشروط رہیں گی۔
یوں 725 ملین ڈالر کی مجوزہ ادائیگی امریکہ کے اقوام متحدہ کے ساتھ تمام بقایاجات کا تصفیہ نہیں بلکہ 4 ارب ڈالر سے زائد واجبات کی جزوی ادائیگی ہوگی۔
تصویری کیپشن:
امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کو 725 ملین ڈالر کی مجوزہ ادائیگی، 4 ارب ڈالر سے زائد واجبات بدستور باقی
تجویز کردہ تصویر:
اقوام متحدہ کے نیویارک ہیڈکوارٹر کی عمارت، سامنے اقوام متحدہ کے جھنڈے، اور پس منظر میں امریکی پرچم یا امریکی پرچم کے ساتھ اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر۔