واشنگٹن — اردو امریکہ: امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد اور ان کے تین شریک ملزمان کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس وقت تک حملوں کو تقریباً 27 سال اور ملزمان پر فردِ جرم عائد ہوئے دو دہائیاں گزر چکی ہوں گی۔
امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کرنل اور فوجی جج مائیکل اے شراما نے بدھ کو جاری کیے گئے 114 صفحات پر مشتمل حکم میں استغاثہ کی جانب سے جنوری 2027 میں مقدمہ شروع کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ جج نے قرار دیا کہ شواہد، عدالتی قواعد اور دیگر زیرالتوا قانونی تنازعات نمٹانے کے لیے اتنا وقت کافی نہیں ہوگا۔
مقدمہ کیوبا میں واقع امریکی بحری اڈے گوانتانامو بے کی فوجی عدالت میں چلے گا۔ فوجی اہلکاروں پر مشتمل پینل جیوری کا کردار ادا کرے گا۔ پینل کے انتخاب کے 30 روز بعد ابتدائی دلائل شروع ہوں گے، جس کے بعد استغاثہ اپنے شواہد اور دفاع اپنے دلائل پیش کرے گا۔
خالد شیخ محمد کے ساتھ جن تین ملزمان پر مقدمہ چلایا جائے گا، ان میں ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی، جنہیں عمار البلوچی بھی کہا جاتا ہے، اور مصطفیٰ احمد الہوساوی شامل ہیں۔ ان سب پر سازش، دہشت گردی، طیارہ اغوا کرنے اور جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل سمیت متعدد الزامات ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں سزائے موت ہوسکتی ہے۔
تمام ملزمان نے تاحال عدالتی کارروائی کے ذریعے جرم کا حتمی اعتراف نہیں کیا اور قانون کی نظر میں فیصلہ آنے تک انہیں ملزم ہی تصور کیا جائے گا۔
خالد شیخ محمد پر کیا الزامات ہیں؟
امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ خالد شیخ محمد نے مسافر طیاروں کو امریکی عمارتوں سے ٹکرانے کا تصور پیش کیا، منصوبہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے سامنے رکھا اور پائلٹوں کی تربیت، اہداف کے انتخاب اور حملوں کی عملی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
خالد شیخ محمد اس سے قبل امریکی تفتیش کاروں کے سامنے یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے نائن الیون آپریشن کی منصوبہ بندی “شروع سے آخر تک” کی تھی۔ تاہم دفاعی وکلا ان بیانات کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے رہے ہیں، کیونکہ ان میں سے بعض مبینہ طور پر سی آئی اے کی حراست اور سخت تفتیشی طریقوں کے استعمال کے بعد حاصل کیے گئے تھے۔
محمد نے امریکہ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہیں مارچ 2003 میں مصطفیٰ الہوساوی کے ساتھ پاکستان کے شہر راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں کئی برس خفیہ سی آئی اے مراکز میں رکھا گیا اور ستمبر 2006 میں گوانتانامو بے منتقل کیا گیا۔
نائن الیون میں کیا ہوا تھا؟
11 ستمبر 2001 کو القاعدہ سے وابستہ 19 افراد نے چار مسافر طیارے اغوا کیے تھے۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، جبکہ تیسرا طیارہ ورجینیا میں امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون سے ٹکرایا۔
چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 93، مسافروں کی جانب سے مزاحمت کے بعد پنسلوانیا کے ایک میدان میں گر کر تباہ ہوا۔
ان حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن کا تعلق 90 سے زیادہ ملکوں سے تھا۔
ستمبر 2026 میں حملوں کی 25ویں برسی منائی جائے گی، لیکن متاثرہ خاندانوں کو مقدمے کے باقاعدہ آغاز کے لیے مزید تقریباً دو سال انتظار کرنا ہوگا۔
مقدمے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
یہ مقدمہ امریکی تاریخ کی پیچیدہ ترین قانونی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔ دو دہائیوں کے دوران ججوں اور وکلا کی تبدیلی، خفیہ دستاویزات، ملزمان کی ذہنی اور جسمانی حالت، فوجی عدالت کے دائرۂ اختیار اور سی آئی اے کی حراست میں مبینہ تشدد سے حاصل ہونے والے بیانات کی قبولیت جیسے معاملات پر مسلسل قانونی بحث ہوتی رہی۔
دفاع کا مؤقف ہے کہ تشدد یا جبر سے حاصل کیے گئے بیانات عدالت میں استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ استغاثہ نے بعض بعد کے بیانات کو قابلِ قبول قرار دینے کی کوشش کی ہے، جس پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
نائن الیون مقدمے کے ایک اور ملزم رمزی بن الشیب کو ذہنی طور پر مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہونے کے عدالتی فیصلے کے بعد موجودہ چار ملزمان کے ساتھ شامل نہیں کیا گیا۔
اقرارِ جرم کا معاہدہ کیوں ختم ہوا؟
2024 میں خالد شیخ محمد اور دو شریک ملزمان نے ایک معاہدے کے تحت جرم قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اس کے بدلے امریکی حکومت ان کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ ترک کرتی اور انہیں پیرول کے امکان کے بغیر عمر قید دی جاتی۔
دو سال کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ پینٹاگون کی مجاز عہدیدار نے منظور کیا تھا۔ معاہدے میں ملزمان کو متاثرہ خاندانوں کے بعض باقی سوالات کے جواب دینے کا پابند بنانے کی شق بھی شامل تھی۔
تاہم اس وقت کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے معاہدے کے اعلان کے چند روز بعد اسے واپس لینے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ نائن الیون جیسے غیر معمولی مقدمے میں سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ ان کی سطح پر ہونا چاہیے۔
بعد میں اس تنازع پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلا اور جولائی 2025 میں واشنگٹن کی اپیل عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے قرار دیا کہ وزیر دفاع کو معاہدہ واپس لینے کا اختیار حاصل تھا۔ یوں اقرارِ جرم کا معاہدہ ختم ہوگیا اور سزائے موت والا مکمل مقدمہ دوبارہ بحال ہوگیا۔
خاندانوں کے لیے مزید انتظار
نائن الیون میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان اقرارِ جرم کے معاہدے اور سزائے موت کے معاملے پر منقسم رہے ہیں۔ بعض خاندان فوری اعترافِ جرم، عمر قید اور حملوں سے متعلق باقی سوالات کے جواب چاہتے تھے، جبکہ دوسرے مکمل مقدمہ اور سزائے موت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
جون 2028 کی تاریخ مقرر ہونا طویل عدالتی تعطل میں ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن مقدمہ فوراً ختم نہیں ہوگا۔ جیوری کے انتخاب، شواہد، اپیلوں اور ممکنہ سزا کے مرحلے کے باعث حتمی فیصلہ آنے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔