نیویارک سے فضل اللہ:
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قائم ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا دائرہ مستقبل میں مزید وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش نے بھی اس دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے امکان کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت سے وابستہ اعلیٰ شخصیات کے حالیہ بیانات کے مطابق ڈھاکہ مکہ معاہدے جیسے علاقائی فریم ورک میں شمولیت کے امکان کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے، تاہم ابھی تک بنگلہ دیش کی جانب سے معاہدے میں شامل ہونے کی کوئی باضابطہ درخواست یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
بنگلہ دیشی سرکاری خبر رساں ادارے BSS کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم طارق رحمان کے ایک قریبی معاون نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی قومی ضروریات، بدلتی عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مکہ معاہدے جیسے علاقائی فریم ورک میں شمولیت کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے دو جونیئر وزرا نے بھی 23 اگست کو اس معاملے پر حکومت کے مثبت رویے کا اظہار کیا، تاہم ان کے مطابق حتمی فیصلہ ملکی مفادات اور وسیع تر قومی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ابھی رکنیت نہیں، مگر دلچسپی واضح
بنگلہ دیش کے حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈھاکہ نے ابھی تک مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
نہ ہی بنگلہ دیش کی رکنیت کی کوئی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے۔ اس وقت دستیاب معلومات سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اس آپشن پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بنگلہ دیش مکہ معاہدے کا چوتھا رکن بننے جا رہا ہے۔ تاہم حکومتی شخصیات کی جانب سے مسلسل مثبت بیانات اس معاملے کو محض میڈیا قیاس آرائی سے آگے لے جاتے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کا بنیادی تصور اجتماعی دفاع ہے، یعنی کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اجتماعی دفاع کے اس اصول کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی اس فریم ورک میں شامل ہونے کی گنجائش موجود ہے۔
یہی شق بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ اگر ڈھاکہ مستقبل میں باقاعدہ رکن بنتا ہے تو اسے صرف دفاعی تعاون ہی نہیں بلکہ اجتماعی دفاع سے متعلق ذمہ داریوں کو بھی قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم ان ذمہ داریوں کی مکمل عملی اور فوجی تفصیلات تاحال عوامی سطح پر واضح نہیں ہیں۔
بنگلہ دیش کیوں دلچسپی لے سکتا ہے؟
بنگلہ دیش کی ممکنہ دلچسپی کو صرف فوجی اتحاد کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
ڈھاکہ کے تینوں ممالک کے ساتھ پہلے ہی مختلف نوعیت کے تعلقات موجود ہیں۔ سعودی عرب بنگلہ دیش کے لیے خلیج میں ایک اہم اقتصادی شراکت دار اور افرادی قوت کی بڑی منڈی ہے۔
ترکی کے ساتھ بنگلہ دیش کے دفاعی، تجارتی اور سفارتی روابط موجود ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی سیاسی، سفارتی اور عسکری رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایسے میں مکہ معاہدے میں ممکنہ شمولیت بنگلہ دیش کے لیے صرف دفاعی تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ اس کی مستقبل کی خارجہ اور علاقائی پالیسی کا ایک اہم اسٹریٹجک فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔
بھارت کا عنصر کتنا اہم ہے؟
بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کا سب سے حساس پہلو بھارت ہوگا۔
ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات پہلے ہی سیاسی اور سفارتی معاملات کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر بنگلہ دیش پاکستان اور ترکی کے ساتھ ایک ایسے دفاعی فریم ورک کا حصہ بنتا ہے جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے تو جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صف بندی پر اس کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔
تاہم اس مرحلے پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ بنگلہ دیش کی دلچسپی بھارت مخالف اتحاد بنانے کے مقصد سے ہے۔
اب تک سامنے آنے والے بیانات میں بنگلہ دیشی حکام نے اس معاملے کو قومی مفاد، عالمی اقتصادی تبدیلیوں اور بدلتی علاقائی صورتحال کے تناظر میں بیان کیا ہے، نہ کہ بھارت مخالف اقدام کے طور پر۔
مصر، شام اور اب بنگلہ دیش
مکہ معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ اس کے قیام کے چند ہی ہفتوں کے اندر دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
ترکی کی جانب سے مصر کو بھی ممکنہ رکن کے طور پر زیر بحث لایا جا چکا ہے۔ ترک وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر پہلے ہی علاقائی معاملات پر رابطوں کے ایک فریم ورک میں کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب شام نے بھی حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران علاقائی دفاعی تعاون کے مختلف امکانات پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اب بنگلہ دیش کی جانب سے سامنے آنے والے مثبت اشارے اس سوال کو مزید اہم بنا رہے ہیں کہ آیا تین ملکی مکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
کیا یہ ’مسلم نیٹو‘ بن رہا ہے؟
مکہ دفاعی معاہدے کو بعض حلقے ’’مسلم نیٹو‘‘ کا نام دے رہے ہیں، تاہم فی الحال یہ نہ تو اس معاہدے کا سرکاری نام ہے اور نہ ہی اس کی مکمل ادارہ جاتی ساخت نیٹو جیسی ہے۔
نیٹو کے برعکس مکہ معاہدے کے پاس ابھی مستقل مربوط فوجی کمانڈ سٹرکچر، کئی دہائیوں پر محیط ادارہ جاتی نظام اور وسیع رکنیت موجود نہیں۔
البتہ اجتماعی دفاع کی شق کے باعث اس کا بنیادی تصور نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثلت ضرور رکھتا ہے۔
بنگلہ دیش کب فیصلہ کرے گا؟
فی الحال بنگلہ دیش کی پوزیشن کو تین اہم نکات میں سمجھا جاسکتا ہے:
- بنگلہ دیش نے ابھی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
- حکومتی شخصیات نے ممکنہ شمولیت کے بارے میں مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔
- حتمی فیصلہ قومی مفادات اور معاہدے کی شرائط کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
اگر بنگلہ دیش مستقبل میں باقاعدہ طور پر مکہ معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو یہ اس اتحاد کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس صورت میں مکہ دفاعی فریم ورک پہلی مرتبہ مشرق وسطیٰ، ترکی اور پاکستان سے آگے جنوبی ایشیا کے ایک بڑے مسلم ملک تک پھیل جائے گا، جس کے اثرات صرف پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور بنگلہ دیش تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا کی علاقائی سکیورٹی اور اسٹریٹجک صف بندی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔