اسلام آباد — اردو امریکہ: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر مکمل اور شفاف احتساب کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت کا ذمہ دار ثابت ہونے والے کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ تمام متعلقہ حکام اور ذمہ دار اداروں تک وسیع ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں ان کی اپنی ذمہ داری بھی سامنے آتی ہے تو انہیں بھی احتساب سے استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر صحت کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ بظاہر نرسری میں نصب ایئر کنڈیشنر میں دھماکے یا برقی خرابی کے بعد لگی۔ نرسری میں آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ اور دھواں تیزی سے پھیلا، جبکہ بجلی منقطع ہونے سے انکیوبیٹرز اور آکسیجن سپورٹ پر موجود بچوں کو بچانے کی کوششیں مزید مشکل ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔
طبی عملے کی موجودگی پر متضاد دعوے
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے واقعے کے وقت طبی عملے کی عدم موجودگی کے الزامات کی تردید کی ہے۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں دو ڈاکٹر اور چار نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔
دوسری جانب بعض متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں مطلوبہ تعداد میں طبی عملہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ ان متضاد بیانات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ تحقیقات میں عملے کے ڈیوٹی ریکارڈ، حاضری سے متعلق دستاویزات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا۔
فائر سیفٹی اور ریسکیو نظام کی بھی تحقیقات
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ تحقیقات صرف آگ لگنے کی ابتدائی وجہ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ اسپتال کے فائر سیفٹی نظام، ہنگامی اخراج کے انتظامات، بجلی کے نظام اور ریسکیو ردعمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آیا فائر الارم اور دیگر حفاظتی نظام درست طریقے سے کام کر رہے تھے یا نہیں، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملے کو مناسب تربیت حاصل تھی یا نہیں۔
تحقیقات میں آکسیجن کی محفوظ فراہمی اور نرسری وارڈ میں موجود طبی آلات کے ہنگامی حالات میں کام کرنے کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
سیاسی قیادت کا اظہارِ افسوس
صدر آصف علی زرداری، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے اس سانحے نے ملک کے سب سے بڑے سرکاری طبی اداروں میں شامل پمز کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سانحے نے اہم سوالات اٹھا دیے
اس واقعے کے بعد پمز اسپتال میں فائر الارم، ہنگامی اخراج کے راستوں، آکسیجن کی محفوظ فراہمی، برقی نظام اور طبی عملے کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ خاندان واقعے کی وجوہات اور اپنے بچوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تاہم کسی بھی فرد یا ادارے کو قانونی طور پر ذمہ دار قرار دینے کا فیصلہ تحقیقاتی رپورٹ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت اس سانحے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔