واشنگٹن:
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف محدود دفاعی حملوں کا آغاز کرنے کے بعد کارروائی روک دی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی آرمی کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے واقعے کے جواب میں کی گئی۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق بدھ کی صبح امریکی افواج نے ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی اور اس کا مقصد امریکی مفادات اور فوجی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں کو محدود دائرہ کار میں رکھا گیا اور بعد ازاں جوابی کارروائی مکمل ہونے پر مزید حملے روک دیے گئے۔ تاہم امریکی فوج نے نشانہ بنائے گئے تمام مقامات اور حملوں کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی کے باوجود فریقین کی جانب سے مذاکراتی راستہ کھلا رکھنا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔