کابل:
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر افغان فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب مختلف مقامات پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ان الزامات پر پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ایکس پر جاری اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق ان مبینہ حملوں میں عام شہری متاثر ہوئے اور 11 بچے، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص ہلاک ہوئے۔ انہوں نے مبینہ طور پر متاثرین کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ تاہم ان دعوؤں اور تصاویر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی اور رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان ماضی میں متعدد بار یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ اسلام آباد بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث جاری ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان، افغانستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان ایک دوسرے پر مداخلت، سرحدی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
سلامتی کونسل میں پاکستانی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مختلف دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دوسری جانب افغان نمائندے نے پاکستان پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات دہرائے۔
بھارت کے نمائندے نے بھی خطے میں دہشت گردی اور سرحد پار سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جس پر پاکستان نے جواب دیتے ہوئے بھارت پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ایک دوسرے پر عائد کیے جانے والے الزامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب خطے میں دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور سیاسی استحکام کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔