نئی دہلی / اسلام آباد:
بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پورا جموں و کشمیر بھارت کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور عالمی برادری کو پاکستان کی مبینہ کارروائیوں اور پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آیا بھارت اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ پاکستانی زیادتیوں کا معاملہ اٹھائے گا؟ اس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کا مؤقف واضح ہے اور پورا جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔
بھارتی حکام نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو اس کی مبینہ غلط کاریوں اور انسانی حقوق سے متعلق الزامات پر جوابدہ ٹھہرائے گی۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی حمایت کرتی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر تنازع کا منصفانہ اور دیرپا حل ضروری ہے۔
کشمیر کا مسئلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک اس خطے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں اور متعدد مواقع پر یہ معاملہ بین الاقوامی فورمز پر بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں کشمیر سے متعلق بیانات اور سفارتی سرگرمیاں مستقبل میں بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔