بریکنگ
اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف دفاعی حملے شروع کردیے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف دفاعی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آرمی کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے منگل کی شام پانچ بجے (امریکی مشرقی وقت کے مطابق) ایران کے خلاف دفاعی حملے شروع کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کا جواب ہے اور اس کا مقصد مبینہ ایرانی جارحیت کے خلاف متناسب ردعمل دینا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب معمول کی گشت پر تھا جب وہ گر کر تباہ ہوگیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی فوجیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے بھی دونوں اہلکاروں کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس واقعے کا جواب دینے پر مجبور ہوا ہے۔
بعد ازاں ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ردعمل مضبوط، مؤثر اور محدود مقاصد پر مبنی ہونا چاہیے۔ تاہم امریکی حکام نے فوری طور پر حملوں کی مکمل تفصیلات، استعمال کیے گئے ہتھیاروں اور نشانہ بنائے گئے مقامات کے بارے میں معلومات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم، ساحلی شہر سیریک اور بندر عباس کے اطراف دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران نے امریکی ہیلی کاپٹر کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کے الزام کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کوئی جارحانہ فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی حدود کے قریب موجود غیر ملکی فوجی دستے حادثات یا باہمی فائرنگ جیسے خطرات سے دوچار رہتے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے غیر ملکی افواج کو خطے سے نکل جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی تشویش موجود ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران اور اسرائیل دونوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل بھی کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے واقعے اور اس کے بعد امریکی فوجی کارروائی نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہاں کشیدگی میں اضافہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔