بھارتی سرمایہ کاری سے امریکا اور بھارت دونوں میں روزگار پیدا ہوتا ہے: امریکی سفیر

ذیلی عنوان: سرجیو گور نے اقتصادی تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مستحکم ٹیکس نظام، واضح ضوابط اور حقوقِ دانش کے مضبوط تحفظ پر زور دیا
بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور ممبئی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے
بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور ممبئی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے


بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ بھارتی کمپنیوں کی امریکا میں سرمایہ کاری دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے امریکا اور بھارت دونوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اقتصادی تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام، واضح ضوابط، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور حقوقِ دانش کا مضبوط تحفظ ضروری ہے۔

ممبئی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے سرجیو گور نے کہا کہ جب بھارتی کمپنیاں امریکا میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو انہیں دنیا کی ایک متحرک منڈی تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جبکہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ایسے اقتصادی مواقع موجود ہیں جو دوسرے ممالک میں قائم امریکی سفارت خانوں کو عموماً میسر نہیں ہوتے۔ اپنی حالیہ مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی سفیر نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ایک ہی دن میں انہوں نے میٹا، نیٹ فلکس اور رولز رائس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

سرجیو گور کے مطابق دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں، تاہم ان امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو حقیقی شراکت داروں کی طرح مل کر دور کرنا ہوگا۔

امریکی سفیر نے کاروبار کے لیے مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس و ریگولیٹری نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدی پابندیوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق معاملات پر اعتماد اور کھلے انداز میں بات چیت ہونی چاہیے۔

انہوں نے حقوقِ دانش کے تحفظ کو بھی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط قانونی تحفظ سے نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کو کسی خوف کے بغیر سرمایہ کاری، تخلیق اور کاروبار میں توسیع کا اعتماد ملتا ہے۔

سرجیو گور نے کہا کہ امریکا اپنی تقریباً 40 فیصد جنیرک ادویات بھارت سے حاصل کرتا ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) سمیت توانائی کی تجارت میں غیر معمولی سطح پر کام کر رہے ہیں۔

تاہم خطاب میں ایل این جی اور ایل پی جی سے متعلق بیان کیے گئے 40 فیصد کے اعدادوشمار کی نوعیت یا اس کے تقابلی دورانیے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

تصویری کیپشن:
بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کاروباری شخصیات سے خطاب کر رہے ہیں۔

تجویز کردہ تصویر:
بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کی ممبئی میں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے تصویر۔